پرانی نسل نئی نسل کے لئے سدِ راہ ۔۔۔ علی رضا منگول

پرانی نسل نئی نسل کے لئے سدِ راہ

تحریر: علی رضا منگول

وقت، حالات یا کوئی بھی چیز اپنی جگہ پر مستقل و یکساں نہیں رہ سکتی، یعنی بدلتی رہتی ہے۔ اگر ایک سیکنڈ کے ہزارویں یا سویں حصے کو کوئی بیاں کرنا چاہے تو یہ ایک ناممکن عمل ہوگا۔ اس لئے کہ جب تک ہم اسے بیان کررہے ہوتے ہیں وہ آگے اگلے مقام پر پہنچ چکا ہوتا ہے۔ یہ ایک مسلسل تبدیلی کی تیزرفتار عمل کو ظاہر کرتی ہے جس کے ساتھ ہر چیز پہلے کی نسبت بدل چکی ہوتی ہے۔ لہٰذا کسی بھی پرانے تجربے یا نتیجے کو درست ثابت ہونے کے لئے نئے حالات کی کسوٹی پر مقدم اور صحیح ثابت ہونا شرط ٹھہرتا ہے۔ البتہ ہم ابھی تک اس بات کو سمجھنے اور قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

اس کی وجہ ایک تو ہمارے مفادات ہیں یا ہماری پسماندگی، کہ ہم زمان و مکان کی تبدیلی کے ساتھ اپنے آپ کو ہم آہنگ کرنے کی ہمت سے قاصر ہیں۔ مگر اکثر اوقات یہ کوئی شعوری عمل نہیں ہوتا کیونکہ ہماری نفسیات ہمارے اردگِرد کے حالات کا نتیجہ ہوتی ہیں جو ہماری خواہش کے برعکس جبری طور پر ہمارے لاشعور میں جاگزیں ہوتی رہتی ہیں۔

پرانی نسل اپنے حالات و تجربات سے جو نتائج اخذ کرتی ہے ان پر کٹرپن اور سختی کے ساتھ ایستادہ ہوجاتی ہے جسے Rigidity کہا جاتا ہے۔ لہٰذا وہ ان نتائج کو حتمی تصور کرتے ہوئے ہر عمل کو اسی معیار اور پیمانے پر تولنا درست تصور کرتی ہے جو کسی حد تک غلط بھی نہیں ہے۔ مگر پرانے حالات کے نتائج کو من و عن نئے حالات پر مسلط کرنا قطعی نادرست ہے۔ کیونکہ حالات کے بدلنے کے ساتھ ساتھ اس کے تقاضے بھی بدل جاتے ہیں اور وہی نتائج جو قبل ازیں حاصل ہوئے ہیں ضروری بالکل نہیں کہ وقت بعید میں بھی ویسے ہی ہوں۔

یوں پرانے نتائج کی از سر نو جانچ اور آزمائش ضروری ہے تاکہ موجودہ ماحول کے مطابق اس کی درستگی کو آزما کر اس سے استفادہ کیا جائے۔ البتہ پرانی نسل اپنے تجربے اور برتری کی نفسیات کے زعم میں اسے عمومی طور پر نظرانداز کرنے پر کاربند رہتی ہے۔ اس طرح وہ نئی نسل کو کمتر اور ناتجربہ کار سمجھ کر اسے شدت سے محکوم کرکے اپنے تجربات پر چلنے پر زور دیتی ہے جو سائنسی لحاظ سے نا درست بلکہ غلط اقدام ہے۔

معاشرے میں یہ عمل عام ہے کہ بڑے کا احترام کرنا چاہیے اور ان کی باتوں کو غور سے سن کر ان پر عمل کرنا چاہیے جو کہ جزوی طور پر درست مگر قطعی طور پر ایک غلط عمل ہے۔ آج نئی نسل علم کی فراوانی کی بدولت وہ سب جانتی ہے جو کبھی مختلف علوم پر دسترس رکھنے والوں کے لئے بھی ممکن نہ تھا۔

موجودہ دور میں پرانی نسل کا خواہ وہ کسی بھی میدان میں ہو، اپنے کو عقل کل سمجھنے کا رجحان ایک نادرست سوچ کی عکاس ہے۔ تاریخ، سیاسیات، نفسیات، اقتصادیات، سماجیات، فلسفہ، میڈیکل سائنس اور دیگر سائنسی علوم میں جس حد تک آج آگے جانا ممکن ہے اس مقام پر اس سے قبل کسی بھی زمانے میں ممکن نہ تھا۔ مزید یہ کہ جو وسائل آج کی نسل کو دستیاب ہیں اس سے قبل کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ لہٰذا یہ بات طے شدہ ہے کہ ٹیکنیک کے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ شعور بھی آگے بڑھتا ہے۔

نتیجتاً یہ لازم ہو جاتا ہے کہ پرانی نسل اپنی استعداد کو نئی نسل کی راہ میں حائل کرنے کی بجائے اسے ان کے سامنے رکھ کر نئے علوم کے ساتھ یکجا کرکے نئے نتائج اخذ کرنے کی ہدایت کے ساتھ ان کا راستہ روکنے سے اجتناب کرے تو معاشرے کے لئے بہتر ہوگا۔ بصورت دیگر نسل جدید انہیں پیچھے دھکیل کر بھی آگے نکل جائے گی۔ لہٰذا پرانی نسل سے التماس ہے کہ وہ انہونی نتائج کے حصول کی کوشش میں معاشرے اور نئی نسل کو اپنا دشمن یا مخالف بنانے کی غلطی نہ کرے۔ ورنہ جس طرح غیر نامیاتی مادے سے نامیاتی اور پھر رفتہ رفتہ زندگی کے جنم کو کوئی طاقت نہ روک سکی ویسے ہی نئی نسل کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ فطرت میں حرکت اور ارتقاء لازم ہے جسے روکنا ناممکن ہے۔

آزاد کردو نئی نسل کو کہ انہیں آگے بڑھنے سے دنیا کی کوئی طاقت روکنے کی سکت نہیں رکھتی۔ یہ تمہارے فائدے میں ہے ورنہ نقصان مقدر ہوگا۔

علی رضا منگول

مضمون نگار ایک مارکسسٹ اور ٹریڈ یونین ایکٹوسٹ ہونے کے علاوہ اظہار کی مجلس ادارت کے رکن بھی ہیں۔
علی رضا منگول

علی رضا منگول

مضمون نگار ایک مارکسسٹ اور ٹریڈ یونین ایکٹوسٹ ہونے کے علاوہ اظہار کی مجلس ادارت کے رکن بھی ہیں۔