ہمنوا ۔۔۔ ہاشم کیمیا گر

ہمنوا ۔۔۔۔ افسانہ

تحریر: ہاشم کیمیا گر

باہر نکلنے کے لئے جوں ہی گھر کا دروازہ کھولا، دیکھا کہ ایک آدمی خون آلود ہاتھوں کے ساتھ کھڑا ادھر ادھر دیکھ رہا ہے۔ میں پریشان کہ آخر ہوا کیا ہے!  وہ آدمی مجھے دیکھتے ہی میری طرف بڑھنے لگا۔ پہلے تو میں نے بھاگنا چاہا لیکن نجانے کیوں میرے پاؤں جیسے زمین میں گڑ گئے۔ میری طرف آتے ہوئے وہ کچھ بڑبڑا بھی رہا تھا۔ میرے پاس پہنچ کر پوچھا

“ہاتھ دھونے کیلئے پانی ملے گا؟”

بغیر کچھ کہے، بغیر کچھ پوچھے میں جھٹ سے واپس گھر کے اندر گیا اور لوٹا بھر پانی لے آیا۔ “بڑی مہربانی” بول کر اس نے ہاتھ آگے کیا اور میں اس کے ہاتھ پر پانی ڈالنے لگا۔ اسی دوران اس کی بڑبڑاہٹ جملوں میں تبدیل ہونی شروع ہوئی جس کا مخاطب میں تھا۔ ” بھائی صاب! لوگوں میں دین نام کی کوئی چیز باقی نہ رہی۔ ہماری حالت کا ذمہ دار دین سے دوری ہے۔ اللہ اس امت کی حالت پر رحم فرمائے۔ کہو آمین۔” میں نے بھی کہا “آمین”۔ تبھی میں نے ہمت کرکے پوچھا “آخر ہوا کیا ہے؟”

پوچھنے کے انداز میں کہنے لگا “دین میں جہاد کی کتنی اہمیت ہے؟”

میں نے بغیر کچھ سوچے سمجھے جواب دیا” بہت اہمیت ہے”۔

“آپ لوگوں کی دین سے دوری کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگا سکتے ہیں کہ لوگ نہ تو جہاد اور نہ ہی مجاہد کی اہمیت سے واقف ہیں۔ جہاد میں یہ لوگ میری مدد کیا کرتے، ہاتھ دھونے کیلئے پانی تک فراہم نہ کیا”۔

پہلے اخوت بھری نظروں سے میری طرف دیکھا پھر آسمان کی طرف، پھر دوبارہ میری طرف۔

“آپ نے ایک مجاہد کی مدد کی، اللہ سے امید ہے کہ آپ جنت میں میرے ساتھ ہوں گے” یہ کہہ کر سلام کیا اور گلی سے نکل گیا۔ میں وہاں تھوڑی دیر کیلئے حیران اپنی جگہ کھڑا رہا۔ دین، جہاد، مجاہد، جنت۔۔۔۔ اور میرا محلّہ؟ یہ خیالات ذہن میں لئے، پانی کا لوٹا ہاتھ میں تھامے اپنے گھر والی گلی سے نکلا اور محلے کی بیچ والی گلی میں آیا ۔ دیکھتا ہوں کہ کچھ محلّے والے دائرے میں ایسے کھڑے ہیں کہ کچھ بول رہے ہیں نہ ہل رہے ہیں۔ جیسے سب کے سب پتھر کے بنے ہوئے بت ہوں۔ ان تک پہنچتے ہی میں نے آواز لگائی، ” بھائیو، آخر ہوا کیا ہے” میری آواز پر کچھ لوگوں نے میری طرف یوں دیکھا جیسے پتھر کے بنے مجسموں میں تھوڑی سی حرکت ہوئی ہو اور میرے آگے بڑھنے کیلئے راستہ بنایا۔ ٹوٹے دائرے کے اندر جاکے کیا دیکھتا ہوں کہ بغیر سر کے خون میں لت پت اک لاش پڑی ہے۔ لاش سے ذرا فاصلے پر جب الگ کئے ہوئے سر پر نظر پڑی تو میری گرفت پانی کے خالی لوٹے پر ایسےمضبوط ہوگئی جیسے قصائی کا ہاتھ چھرے پر بکرا کاٹتے وقت ہوتی ہے۔ دین، جہاد، مجاہد، مجاہد کا ساتھی اور ہمنوا، جنت اور جنت میں مجاہد کے ساتھ کھڑا ہوا میں۔۔۔ وہ سر میرے بچپن کے دوست احمد کا تھا۔ 

ہاشم کیمیا گر

پروفیسر ہاشم کیمیاگر کو ادبی اور سماجی موضوعات میں دلچسپی ہے۔ نثر میں لکھنے کے علاوہ کبھی کبھار شعر بھی کہتے ہیں،
ہاشم کیمیا گر

Latest posts by ہاشم کیمیا گر (see all)

ہاشم کیمیا گر

پروفیسر ہاشم کیمیاگر کو ادبی اور سماجی موضوعات میں دلچسپی ہے۔ نثر میں لکھنے کے علاوہ کبھی کبھار شعر بھی کہتے ہیں،