ہزارہ مرکزی ایشیا میں ۔۔۔ اسحاق محمدی

ہزارہ مرکزی ایشیا میں

تحقیق و تحریر:  اسحاق محمدی

امیرعبدالرحمن کی ہزارہ نسل کشی کی پالیسی سے بچنے کے لیے ہزارہ مہاجرین کی ایک بڑی تعداد نے آس پاس کے دیگرممالک کے علاوہ  مرکزی ایشیا کی طرف بھی مہاجرت اختیار کی جس کےمعتبرشواہد موجود ہیں۔ مثلاًہزارہ جنگ آزادی کے معروف جنگجو سالارعظیم بیگ نے حتمی شکست کے بعد ازبکستان کی طرف رخت سفر باندھا۔  ان کی کتاب “ہزارستان” 1898ء میں تاشقند ازبکستان سے شائع ہوئی۔ اندریں بابت تیمورخانوف لکھتے ہیں کہ “1897ء کے دوران ہزارہ قوم کو روس میں پناہ لینے کی اجازت مل گئی جس کے بعد بڑی تعداد میں ہزارہ رعایا نے روسی سرزمین میں پناہ لے لی (تیمورخانوف-ص 145،46)۔  اس سلسلے میں درج بالا شواہد کے علاوہ مزید تفصیلات دستیاب نہیں۔ اغلب امکان یہی ہے کہ اپنی جڑوں سے کٹنے کے بعد مقامی لوگوں سے گھل مل کر  بعد از گذشت زمان انہوں نے اپنی شناخت کھودی ہو ، جیسا کہ ازبکستان کے درہ مرغاب کے ہزارہ باشندوں کے ہاں ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے۔

الف- ازبکستان و ترکمانستان

ازبکستان کے علاقہ درہ مرغاب میں بھی  ہزارہ قوم کے بود و باش کے شواہد ملتے ہیں۔  جناب اوحدی سابق سویت  منابع کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ”ہزارہ قوم کی اکثریت افغانستان میں آباد ہے لیکن ان  کی ایک  تعداد جمہوری ازبکستان کے علاقہ درہ مرغاب میں بھی مقیم ہے۔1926 کی مردم شماری میں ازبکستان اور ترکمنستان میں ان کا  اندراج جداگانہ طورپرکیا گیا تھا لیکن بعد کے ادوار میں انہیں دیگر اقوام کے زمرے میں رکھا گیا۔ اغلب امکان یہ ہے اب انہیں ترکمنوں میں شمارکیا جاتا ہو” (اوحدی-ص91-92)۔ ترکمانستانی ہزارہ کے بارے میں مزید معلومات دستیاب نہیں۔

ب- داغستان

جمہوریہ داغستان میں بڑی تعداد میں ہزارہ قوم کی موجودگی کی اطلاعات ہیں لیکن صد افسوس کہ اس ضمن میں تفصیلات دستیاب نہیں جناب اوحدی اس سلسلہ میں لکھتے ہیں کہ” امیرعبدالرحمن کی ہزارہ نسل کشی کے نتیجے میں ہزارہ باشندوں کی ایک بڑی تعداد مختلف ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئی جن میں جمہوریہ داغستان بھی شامل ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمیں ان کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہیں۔

ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ 1367ھ ش (1988) میں جمہوریہ داغستان کے حکام نے افغانستان کی وزارت خارجہ کے توسط سے ہزارہ قومی جرگہ کابل سے درخواست کی تھی کہ اپنے نمائندے ان کی ایک قومی کانفرنس میں بھیجیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو  افغانستان کے ناقلین ہزارہ کہا تھا اور داغستان میں اپنی تعداد نصف ملین بتائی تھی۔ لیکن حکومت وقت نے ہزارہ قومی جرگہ کے علم میں  لائے بغیر  تاجکستان میں زیر تعلیم دوہزارہ طالبعلموں کو وہاں بھیجنے پرہی اکتفا کیا”(اوحدی-ص92)۔

ت- دیگر ممالک

افغانستان میں ثور انقلاب کے بعداور خاص طورپر ہزارہ جات میں خمینی صاحب کے حمایت یافتہ گروہوں کی باہمی لڑائیوں کے نتیجےمیں بڑی تعداد میں ہزارہ اپنے گھربار چھوڑکر مہاجربننے پر مجبور ہوئے لیکن ان کے نعرہ “اسلام مرزندارد” کے زیراثر مغربی ممالک کے بجائے ایران جانے کو ترجیح دی اور چونکہ مذہب کا نشہ اترنے میں وقت لگتا ہے اس لیے ہزارہ قوم کوبھی اس فریب سے نکلنے میں کافی وقت لگا۔  تین دہائیوں تک ایران میں ذلیل و خوار ہونے کے بعد ان کو پتہ چلا کہ ولایت فقیہ کا نظام ہٹلر کے نازی قوانین کی طرح  نسل پرستانہ ہے (اس ضمن میں آیت اللہ علی محقق نسب کی کتاب ولایت فقیہ ومرزھای جغرافیائی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے)۔ یوں ا ن کی ایک تعداد جو مالی استطاعت رکھتی تھی نے نوے کی دہائی کے وسط میں یورپ کی طرف جبکہ مذکورہ دہائی کے اواخر میں آسٹریلیا کی جانب رجوع کرلیا۔ یاد رہے کہ اس وقت تک ان ممالک نے نئے مہاجرین کی قبولیت کے سلسلے میں اپنے قوانین کافی حد تک سخت کردیئے تھے۔ با این ہمہ اب ہزارہ پناہ گزینوں کی ایک قابل ذکر تعداد یورپ، امریکہ، کنیڈا، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیامیں آباد ہوچکی ہے۔ ان ممالک میں تعداد کے لحاظ سے آسٹریلیا سرفہرست ہے جہاں ایک لاکھ کے قریب ہزارہ پناہ گزین مقیم ہیں۔ ماضی میں عراق، شام اور لبنان میں بھی ہزارہ آبادیاں تھیں لیکن اب صرف عراق میں ان کی ایک قلیل تعداد باقی رہ گئی ہے۔

 SOURCES:

 Awhidi, Jalal, .Tarkib-i-Qabayel dar sakhtar-e-Milli-e-Milliyat-e-Hazaraha،Quetta 2010.          

Temur, Khanov, Tarikh-e-Hazara Mughal, Urdu, Quetta, 1992.

BIBLIOGRAPHY :  

 Awhidi, Jalal, .Tarkib-i-Qabayel dar sakhtar e Milli e Milliyat e Hazaraha،Quetta 2010.          

 Afghan Boundary  Commission Report Vol-IV, Simla 1888

Temur, Khanov, Tarikh e Hazara Mughal, Urdu, Quetta, 1992.

Uruzgani, Mullah Afzal. Al Mukhtasar Al Manqool Fi Tarikh e Hazara wa Mughul. Quetta: Pakistan ., 1914.

Tarikh e Hazara by Ustad Raja Khan, Haripur Hazara, 1998

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔
اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *