میرے بابا ۔۔۔ زہرا

میرے بابا

زہرا

میرے ہاتھوں کو دیکھ کر اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ زہرا تم گھر میں کام کرتی ہو کیا؟ دراصل ان شہزادیوں جیسے ہاتھوں کے پیچھے ایک بادشاہ کا ہاتھ ہے  جس نے پھولوں کی طرح مجھے پالا۔ شہزادیوں جیسا لاڈ پیار دیا۔ جس نے اپنے پیچھے کھڑا کرکے مجھے نماز پڑھنا سکھایا۔ 8 سال کی عمر میں میرے پہلے روزے میں میری حوصلہ افزائی کی۔ چوٹ مجھے لگتی ہے درد انہیں ہوتا ہے۔ تکلیف مجھے ہوتی ہے، پریشان بابا ہوتے ہیں۔بابا،  جس نے خود بھوکا رہ کر مجھے کھلایا۔۔۔ خود تپتی دھوپ میں رہ کر مجھے چھاؤ ں میں رکھا۔ سخت سردی میں کام کرکے مجھے آسائشوں میں رکھا۔ کمزوریوں میں میرا حوصلہ بنا۔ غم میں میرا سہارا بنا۔ جس نے انگلی پکڑ کر مجھے  چلنا سکھایا۔ جس نے مجھے میرے پیروں پر کھڑا کیا۔ مجھے ڈانٹنے پر خود بیمار پڑ جاتے ہیں پھر اپنی بیماری کو مجھے ڈانٹنے پر خدا کی ناراضگی سمجھ کر مجھ سے معافی مانگتے ہیں۔ مصیبت میں کوئی میرے ساتھ ہو یا نہ ہو،  میرے بابا ضرور میرے ساتھ ہوتے ہیں۔ خدا نے  مجھے فرشتے جیسا باپ دیا ہے۔ اگر خدا کے بعد کسی کو سجدہ کرنے کا حکم ہوتا تو میں اپنے بابا کو سجدہ کرتی۔

 مجھے فخر ہے میں ایک مزدور کی بیٹی ہوں۔ دنیا کے سارے مزدوروں کو میرا سلام!

اظہار

اپنی سوچ کا اظہار کیجئے