ماں میں کہاں جاؤں!؟ ۔۔۔ عباس حیدر

ماں میں کہاں جاؤں!؟ 

عباس حیدر
ماں میرے کاندھے لاشیں اٹھاتے اٹھاتے کمزور ہوچکے ہیں ۔  ماں میری عمر بیس سال ہے  لیکن میں لگتا چالیس  سال کاہوں۔  ماں میں تنہا ہوچکا ہوں،  ماں میں نے ہمیشہ دوسروں کا ساتھ دیا ہے لیکن دوسرے میرا ساتھ کیوں نہیں دے رہے؟ ماں میں کہاں کھیلوں؟  ماں مجھے آگے بڑھنا ہے۔ ماں زندگی تلخ ہوچکی ہے۔ ماں مجھے اس قبرستان سے نکلنا ہے۔ یہاں جنگل کا دستور ہے۔ ماں یہاں انسانیت   کا دستور نہیں چلتا۔  ماں میں ذہنی کوفت میں مبتلا ہوں۔

 یہ چند جملے ایک نوجوان کے ہیں جس نے مجھے اس وقت اپنی طرف متوجہ کیا جب میں اپنی بھتیجی کے ساتھ اس کے  نانا کی  قبر پر فاتحہ خوانی کررہا تھا (میری بھتیجی ڈھائی سال کی ہے۔ میں اسے اکثر باہر گھمانے لے جاتا ہوں )۔  اس جوان کے چہرے پر تھکاوٹ اور افسردگی عیاں تھی۔ وہ ایک شہید خاتون کی قبر کے پاس بیٹھا آہ و زاری میں مصروف تھا۔  آس پاس کچھ اور لوگ بھی تھے جو غالباً اس کے رشتہ دار تھے۔ نوجوان کے ساتھ وہ سب بھی  رو رہے تھے۔  میں اس دن قبرستان میں کچھ پھل نیازکے طور پر لے گیا تھا۔  میں نے اپنی بھتیجی سے کہا “یہ پھل ان کو دے کر آؤ” ۔ وہ شاید اس نو جوان کی سسکیوں اورنالہ و فغاں  سے ڈرگئی تھی اس لیے جانے سے انکار کردیا۔ یہ دیکھ کر میں خود ان کے پاس پہنچا اور ان کو فروٹ پیش کئے ۔ نوجوان خاموش ہوکر میری طرف دیکھنے لگا اور دعا کی اللہ تعالیٰ  ہم ہزارہ برادری پر رحم کرے۔  اسی دوران کسی خاتون نے جو غالباً اس کی بہن تھی نے مجھ سے کہا کہ میں کسی طرح اسے یہاں سے اٹھ کر جانے پر آمادہ کرلوں۔  میں نے  باتوں  ہی باتوں میں  اسے وہاں سے اٹھ کر کچھ دیر کے لئے اپنے ساتھ چہل قدمی پر آمادہ کرلیا۔ اس دوران  ہمارے بیچ بہت ساری باتیں ہوئیں۔  میں نے پوچھا وہ کون ہے جس کی قبر پر تم رورہے تھے  ۔۔۔؟  اس نے بہت درد بھری آوز میں  بتایا کہ وہ میری جنت ،  میری زندگی ، میری ماں ہے  ماں ۔۔۔ یہ کہہ کر وہ ایک بار پھر رونے لگ گیا۔ میں نے کسی طرح چپ کرایا تو وہ کہنے لگا کہ ” برار میری ماں کسی کو مارنے نہیں چلی تھی وہ تو صرف سبزی لینے گئی تھی۔ ظالموں نے اس کےٹکڑے  کر دیے۔  کیا قصور تھا اس کا!؟  میں  نےپوچھا کہ کس واقعے کی بات کررہے ہو؟  اس نےکہا  کہ مارچ2013 کے قیامت خیز واقعے کی ۔   میں نے پوچھا کام کیا کرتے ہو ؟ کہنے لگا کہ  رنگ ساز ہوں اور وہ میری بہنیں ہیں۔  ان سب کی ذمہ داری  اب مجھ پر ہے۔  جب کبھی مجھے موقع ملتا ہے میں  ماں سے  ملنے  یہاں آجاتا ہوں۔  والد آٹھ سال پہلے وفات پاچکےہیں جن کے بعد ماں ہی ہمارا سائبان تھیں  اور وہی سب کا خیال رکھتی تھیں۔ ان کے بعد اب ساری ذمہ داری میرے کاندھوں پر آپڑی ہے اور  مجھے ہروقت اپنی بہنوں اور چھوٹے بھائی کی فکر  لاحق رہتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *