لبرلائزیشن، پرائیویٹائزیشن اور گلوبلائزیشن ۔۔۔ علی رضا منگول

لبرلائزیشن، پرائیویٹائزیشن اور گلوبلائزیشن

علی رضا منگول

1930 کے گریٹ ڈپریشن کے بعد آدم سمتھ، ڈیوڈ ریکارڈو اور تھامسن رابرٹ مالتھس کی کلاسیکل اکانومی کے برعکس J M Keynes نے بالکل الگ تھیوری متعارف کی جسے Keynesianism کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے ریاست یا حکومت کی مداخلت کے ذریعے یعنی زیادہ پیسہ لگا کر معیشت میں سدھار اور بہتری کے طریق کار کو پروان چڑھایا۔ جس کے بہت اچھے اثرات بھی سامنے آئے اور اس طرح معیشت کو بحالی میں سہارا دیا گیا۔ حکومتوں نے روزگار پیدا کرنے اور پیداوار کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری نبھائی جسے پبلک سیکٹر بھی کہا جاتا ہے۔ مگر حکومتوں کی کمزوری سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے زیادہ منافع کے حصول کی خاطر پرائیویٹ سیکٹر نے بھرپور انداز میں کردار ادا کیا۔ اسطرح Mixed economy کی تھیوری مضبوط ہوئی اور مختلف ملکوں نے اسے اپنا کر پروان چڑھایا۔ پبلک سیکٹر کو بین الاقوامی مقابلہ بازی سے بچانے کی غرض سے پرائیویٹ سیکٹر پر حکومتوں کی جانب سے بہت سی پابندیاں لاگو کی گئیں جسے دنیا تحفظاتی پالیسی یا State Protectionism کے نام سے جانتی ہے۔ اس پالیسی کے تحت مقامی انڈسٹریوں کو عالمی سرمایہ داری کی معیاری اور سَستی اجناس کی بھرمار سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی گئی۔ پرائیویٹ سیکٹر پر پابندیوں نے انہیں آزادانہ ترقی کرنے سے روک دیا اور پبلک سیکٹر میں بیوروکریسی اور دیگر حکومتی اہل کاروں کی کرپشن کی وجہ سے معیشت میں ڈیولپمنٹ اور بہتری کے بجائے خرابیاں نمودار ہوئیں اور 1991 تک ان ملکوں میں شدید معاشی بحران کی صورتحال پیدا ہوئی۔ اس کے برعکس ترقی یافتہ دنیا کے سرمایہ داروں نے بہت ترقی کی جس کے نتیجے میں وہ عالمی سامراجی شکل میں تبدیل ہوگئے۔ اس طرح ان بڑی بڑی ملٹی نیشنلز اور مالیاتی اداروں نے دنیا کے معاشی کردار کو اپنے کنٹرول میں کرنے کی خاطر پھر سے نئی تھیوری دی جسے ہم گلوبلائزیشن، تھیچرائزیشن اور ریگنامکس کے نام سے جانتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں WTO ورلڈ ٹریڈ آرگنائزین کے قیام اور Free Trade کو متعارف کروایا گیا۔

سرمایہ داری کے اس قدر پھیلاؤ نے اسے مکمل طور پر بے لگام حیثیت عطا کی اور انہوں نے کمزور معیشتوں پر غلبہ حاصل کیا جس کے نتیجے میں فری ٹریڈ کا اطلاق ممکن ہوا۔ پھر مقامی زراعت اور انڈسٹریز زوال کا شکار ہوئے اور کمزور ممالک شدید معاشی بحران اور Fiscal deficits کا شکار ہوکر زیادہ سے زیادہ قرضوں کے حصول پر مجبور ہوکر ان کے شکنجےمیں چلے گئے۔ اس طرح عالمی معاشی زوال نے ترقی پذیر ملکوں کو مالیاتی اداروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کا مستقل دست نگر بنا کر رکھ دیا ہے۔ بعد میں ان سامراجی مالیاتی اداروں کے ذریعے LPG یعنی لبرلائزیشن، پرائیویٹائزیشن اور گلوبلائزیشن مسلط کئے گئے۔ لبرلائزیشن کے ذریعے پرائیویٹ سیکٹر کی ترقی کے لئے حکومتوں کو پابند کیا گیا کہ وہ معیشت پر سے اپنی گرفت اور کنٹرول کو ختم کرکے اسے مکمل آزاد چھوڑ دیں تاکہ اکانومی مقابلہ بازی میں ترقی کرسکے۔ معیشت کو آزاد یا لبرلائز کرنے کی غرض سے انہوں نے حکومتی سرپرستی اور کنٹرول کو ختم کرنے کے لئے پرائیویٹائزیشن کی پالیسی لاگو کردی تاکہ ریاستی سرپرستی کو مکمل طور پر ختم کیا جاسکے۔ یوں ڈی ریگولرائزیشن اور پرائیویٹائزیشن کے نام پر ریاستی کنٹرول اور گرفت کو ختم کرنا شروع کردیا گیا۔ ان سامراجی عالمی مالیاتی اداروں نے گلوبلائزیشن کی پالیسی کے تحت فری ٹریڈ کے معاہدوں پر عملدرآمد کرکے تیسری دنیا کے ممالک کی خودمختاری تک کو نقصان پہنچایا۔ ان پالیسیوں کی بدولت غریب ممالک جو ٹریڈ کے حوالے سے کبھی اپنی سرحدوں پر اختیار رکھتےتھے اور عالمی اور ترقی یافتہ دنیا کے اجناس کی یلغار سے محفوظ رہ سکتے تھے اب انکے اختیارات ناپید ہونا شروع ہوگئے جس سے گلوبلائزیشن نے State Protectionism   کی پالیسی کو تقریبا قصۂ پارینہ بنا دیا ہے مگر پھر ترقی یافتہ معیشتوں نے اپنےآپ  کو بچانے کے لئے نئے سامراجی قانون یعنی Anti dumpling duty کے تحت پھر اپنی اندرونی یا مقامی پیداوار کو تحفظ فراہم کیا۔

اس گلوبلائزیش کے تحت  سامراجی ممالک کو ہی کمزور معیشتوں پر غلبہ حاصل ہوا اور ان کو فائدہ پہنچا مگر دیگر ترقی پذیر ممالک بربادی کی جانب گامزن ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں زراعت پر سے سبسڈی ختم کی گئی جس سے زراعت کی تباہی اور سستے اجناس کی بھرمار سے انڈسٹری کی بربادی یقینی ہوگئی۔ اس کے علاوہ زیادہ منافع کے حصول کی خاطر شہروں پر توجہ دی گئی اور دیہاتوں پر عدم توجہی کی بدولت حالت مزید خراب ہوکر دنیا کے ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک Neo-colonialism کے پنجے میں جکڑتی چلی گئیں۔ اس وقت نیو لبرل اکانومی نے ترقی پذیر ممالک کو ایک صارف ملک میں تبدیل کردیا ہے جو مسلسل قرضوں کے بوجھ تلے دھنستے جارہے ہیں۔ اس صورتحال کے تناظر میں گلوبلائزیشن پھر ایک سامراجی عمل کے طور پر ترقی پذیر دنیا کے شدید استحصال اور نیو کالونیل ایجنڈا بن کر رہ گئی ہے۔ ان حالات سے نکلنے کے لئے واحد راستہ Planned Economy کی پالیسی ہے جسے لاگو کرنے کے لئے سرمایہ داری کا خاتمہ لازمی ہے۔

علی رضا منگول

مضمون نگار ایک مارکسسٹ اور ٹریڈ یونین ایکٹوسٹ ہونے کے علاوہ اظہار کی مجلس ادارت کے رکن بھی ہیں۔
علی رضا منگول

علی رضا منگول

مضمون نگار ایک مارکسسٹ اور ٹریڈ یونین ایکٹوسٹ ہونے کے علاوہ اظہار کی مجلس ادارت کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *