لمحہ فکریہ ۔۔۔ دعائی آبئی

لمحہ فکریہ

دعائی آبئی

مجھے اب بھی یاد ہے کہ چند سال پہلے تک کوئٹہ امن کا گہوارا ہوا کرتا تھا۔ یہاں لوگ محبت پہ ایمان رکھتے تھے۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ محرم کے دنوں میں غیر شیعہ ہمارے لئے نذر و نیاز کرتےاور سبیلیں لگایا کرتے تھے۔ ہمارے جلوسوں میں ہمارے ساتھ شامل ہوتے تھے۔ ہم ایک دوسرے کے غم و خوشی میں برابر کے شریک تھے۔ پھر کچھ ایسا ہوا کہ کوئٹہ میں نفرت کی فضا پھیل گئی، لوگوں نے اپنے راستے بدل دیئے۔ سب فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن گئے۔ اس نفرت کی آگ کو پھیلانے میں ہمارے ( ہزارہ قوم ) کے چند ایران پرستوں کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے ہم نے ایران کو اپنا پیشوا بنا لیا اور اپنے نفرت انگیز نعروں اور حرکتوں سے لوگوں میں نفرت کو فروغ دیا۔ نتیجتاً باقی قوموں کے چند شرپسند افرد کو بھی نفرت کی اس آگ کو بھڑکانے کا موقع مل گیا ۔ خیر قصہ تو لمبا چوڑا ہے، مختصراً  یہ کہ اب بات یہاں تک آ پہنچی ہے کہ ہمارے ہی قوم کے اندر چند ایسے افراد جو اپنے آپ کو انقلابی کہلواتے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ ہماری مظلومیت کو دنیا تک پہنچائیں اپنے ذاتی بغض،انا اور نفرت کی تسکین کر رہے ہیں۔ لوگ اپنی قوم کی جیت پر جشن اور خوشی مناتے ہیں جبکہ ان لوگوں کو یہ تکلیف ہے کہ یہ کیسے دو صوبائی سیٹ جیت کر قوم کا نمائندہ بن گئے۔ میرے چند فیسبکی دوستوں کے نزدیک ایسے لوگ جو غم زدوں کا مسیحا بنے پھرتے ہیں  )شاید  ہوں بھی( لیکن اپنی ہی قوم کے خلاف ان کا کردار کسی بھی طرح مناسب نہیں۔ یہ لوگ اپنی ہی قوم کی  ایک مخصوص پارٹی کے خلاف اتنی نفرت پھیلا رہے ہیں کہ ان کا بس چلےتو انہی پہ بم گرا دیں۔ ہمیں اپنی مظلومیت دنیا تک پہنچانی ہے،  ریاست یا پاکستان کی باقی اقوام کو اپنے خلاف کرنا نہیں ۔