میں بیچارہ ہوں … ح ، تابش 

میں بیچارہ ہوں
ح ، تابش 
 
میں بیچارہ ہوں بیچارہ
ستم اور دکھ کا ہوں مارا 
میں اپنوں میں ہوں بیگانہ 
میں بیچارہ ہوں بیچارہ 
 
پڑوسی بھائی جیسے ہیں ؟
یہ دھرتی ماں کی جیسی ؟ 
تو
میرا دشمن میر ےبھائی
میرا دشمن میری ماں ہے 
 
میں بیچارہ میں بیچارہ
 
میں کھل کر ہنس نہیں سکتا 
میری مسکان غائب ہے 
بہار آنے کے گلشن میں
سبھی امکان غائب ہے 
کبھی ہنسنے کا سوچوں تو 
جونہی ہنسنے کا سوچوں تو
لئے صندوق ،  باہر سے 
نئی اک لاش آتی ہے 
نئی اک لاش آتی ہے 
 
نہ روٹی ، کپڑا نہ آٹا 
میں تم سے کچھ نہیں چاہتا 
میرا جو کچھ ہے ..! تم لے لو
ابھی لے لو ابھی لے لو 
 
صلے میں زندہ رہنے کا 
مجھے تھوڑا سا حق دے دو
مجھے ہنسنا نہیں بلکل 
مجھے رونے کا حق دے دو
میں تم سے کچھ نہیں چاہتا
فقط جینے کا حق دےدو 
 
میں بیچارہ ہوں بیچارہ
ستم اور دکھ کا ہوں مارا ..