تہذیب و ثقافت یا تاریخی مادیت ۔۔۔ فدا حسین

تہذیب و ثقافت یا تاریخی مادیت

فدا حسین

پہلی قسط

تہذیب، ثقافت اور تمدن کے مابین نمایاں درجات کے فرق موجود ہیں جو کسی سماج کی بنیادی خصوصیات کی توضیح کرتے ہیں۔ پچھلی دو صدیوں میں لکھی گئی کتب کی اگر چھان پھٹک کی جائے تو واضح ہوجاتا ہے، کہ ’’ ثقافت‘‘ کسی قوم، ملت یا قبیلہ کے مادی اوصاف پر مشتمل مجموعی طریقِ بود و باش، رسم و رواج اور باہم ربط و روش وغیرہ کوظاہر کرتی ہے اور ’’تہذیب‘‘ کسی معاشرے کی ماہیئت یا جوہر میں بامقصد تخلیقات اور سماجی اقدار کے نظام کو عیاں کرتی ہے، جو ذہنی ارتقاء اور زندگی کے چلن میں کارفرماہے۔ چنانچہ زبان، آلات و اوزار، پیداوار کے طریقے اور سماجی رشتے، رہن سہن، فنونِ لطیفہ، علم و ادب، فلسفہ و حکمت، عقائد و افسوں، اخلاق و عادات، رسوم و روایات، عشق و محبت کے سلوک اور خاندانی تعلقات وغیرہ تہذیب کے مختلف مظاہر ہیں۔ مگر امروز ’’تہذیب و ثقافت‘‘ کے معانی یکجا کرکے اِن کے لئے انگریزی کا ایک لفظ ’’کلچر‘‘ استعمال کیا جاتا ہے ۔ جبکہ ’’تمدن‘‘ کسی معاشرے کی شہری اور سماجی زندگی کو پیش کرتا ہے۔ تاریخی نقطۂ نگاہ سے اگر ہم دیکھیں، تو تہذیب، ثقافت اور تمدن میں ارتقاء پیہم جاری و ساری ہے اور مارکسی فلسفہ کی ’’جدلیاتی مادیت‘‘ کے تینوں قوانین ’’تاریخی مادیت‘‘ کی صورت اثر انداز ہو کر اِن میں ارتقائی عمل کو مسلسل مہمیز دیتے رہتے ہیں۔ اگر ’’تہذیب و ثقافت اور تمدن ‘‘ کو رنگ برنگ اور متنوع گلوں کی پھلواری سے تشبیہ دی جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ جس میں موسمی تغیرات کی وجہ سے کچھ پھول پودے مرجھا جاتے ہیں ’’ جن کے نصیب میں جڑ سے اکھاڑ کر کوڑے دان میں پھینکنا لکھا ہوتا ہے ۔‘‘ مگراُس گلستاں میں اکثر گلبن تغیر شدہ موسم کے مطابق اپنے آپ کو اُس نئے ماحول میں ڈھال لیتے ہیں، جوپھلواری کی شان اور تاریخی مادیت کا حصہ بنے رہتے ہیں۔ میں کوڑے دان میں پھینکے گئے پھولوں کو ’’متروکہ ، یعنی: ترک کیے ہوئے‘‘ اور پھلواری کی شان گلوں کو ’’افادۂ عام اجزائے تہذیب و ثقافت‘‘ سے تشبیہ دیتا ہوں۔ مگرمیری نظر میں بدقسمتی سے ہزارگی معاشرے میں تقریباً دونوں متروک ہوچکے ہیں۔

تہذیب و ثقافت کے متروکہ اجزاء

 آج سے سینکڑوں سال پہلے ’’ہزارہ قوم‘‘ افغانستان کے وسط اور پہاڑی علاقوں میں بستے تھے۔ اُن کی تہذیب، اُن کا تمدن اور اُن کی ثقافت، یہاں تک اُن کی خوراکوں اور دیگر ماکولات بھی کوئٹہ کے ہزارہ نشینوں سے مختلف تھے۔ اُن کے مٹی کے گاروں سے بنے ہوئے کچے مکانات اور کمرے تھے جہاں برف پڑنے پر اُسے اپنی چھتوں سے ہٹانے کیلئے لکڑی کی بنی ہوئی وائپر (پارُو) کا استعمال کرتے تھے۔ جبکہ آج یہاں ہم اینٹ اور سیمنٹ کے پکے، یا کچے کمروں کی چھتوں پر لوہے کی چادروں سے ڈھکے ہوئے مکانات میں رہتے ہیں۔ جہاں ’’پارُو‘‘ جیسی کسی متروکہ اورگمنام شے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ۔ ہمارے قُدما لمبے پیدل سفر پر جانے سے پہلے اپنی عورتوں سے چار انچ کی موٹی روغنی روٹی (ٹِکی) بنواکر اپنی زادِ راہ کی پوٹلی میں ضرور دھر وادیتے تھے، جبکہ آج ہمیں دورانِ سفر کسی ’’ٹِکی وکی‘‘ کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ کیونکہ چند ہی گھڑی بعد ہم اپنی منزل پر قدم دھرتے ہیں۔ جاڑے میں کڑاکے کی سردی پڑنے سے مہینوں پہلے رسی یا لکڑی کے نوکدار سونٹوں میں پروئے گئے خشک گوشت (قدید) کا استعمال ہمارے آباؤ اجداد بڑے شوق سے کیا کرتے تھے، تاکہ جسم گرم رہے اور اُن کی مشقت میں خلل بھی نہ پڑے اوراِسی موسم سے نمٹنے کے لئے اپنے کمروں کے  فرش کو مورچے کی مانند کھودنے کے بعد ڈھانپ کر انہیں ایک دوسرے سے جوڑدیا کرتے تھے۔ جسے غالباً ’’تؤخانہ‘‘ کہتے ہوں گے اور حسبِ ضرورت مخصوص جگہ پر آگ جلائی جاتی تھی تاکہ آگ کی تپش سے گذاری گئی سرنگ کے توسط سے تمام کمرے گرم رہیں۔ مگر فی زمانہ ’’قدید‘‘ جیسی متروکہ سڑی ماکول کو شاید ہماری نئی نسل ہاتھ بھی نہ لگائے۔جس کا متبادل ہم کافی ، سوپ و دیگرگرم مشروبات میں تلاش کرچکے ہیں۔ جبکہ بے چارہ ’’تؤخانے‘‘ کا نعم البدل ہماری پیاری بہنوں گیس اور بجلی صاحبات کی صورت ہمیں میسر ہے اور یوں دو مزید اجزائے کلچر پارینہ ءِ خاک ہوگئے۔

معروضی نامساعد حالات اور غربت کی وجہ سے ہمارے ناتواں پُرکھ خشک روٹی کو ضائع کئے بغیر کوٹنے کے بعد کچلی ہوئی خشک دہی کی ڈلیوں ’’قروت‘‘ کے پانی میں بھگونے کے بعد ( قورتی) بنا کر بڑے شوق سے کھاتے تھے۔ مگرآج اوریہاں ہمارے نادار لوگوں میں اِس سے بھی لذیذ چیز بھاجی، ترکاری اور دال پکانے کی تعمیم ہو چکی ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارا ایک اورحصۂ ثقافت ’’قورتی‘‘ بھی گمنامی کے سمندر میں غرق ہوگیا ہے۔ برق و برقی آلات نہ ہونے کے سبب شادی بیاہ یا دیگر خوشی کے لمحات میں ہمارے اسلاف بہ نفسِ نفیس ناچ، گا کر اپنی خوشی کا برملا اظہار کیا کرتے تھے۔ مگر اُس کمی کو جدید سائنس نے بہ شکلِ یو ایس بی فلیش ہمیں عنایت فرماکر پوری کردی ’’جو ہزاروں مختلف گانوں کے مجموعے کو اپنے اندر سمونے کی صلاحیت رکھتی ہے اور حجم اتنی چھوٹی کہ چابی چین سے ہمہ وقت نتھی رہ بھی سکتی ہے‘‘۔ ہمارے اجداد نے ہزاروں سال پہلے برفانی ہواؤں سے بچنے کے لئے بھیڑ، بکریوں کے اون سے (جسے اُبلتے ہوئے پانی میں ننگے پاؤں سے رگڑ رگڑ کر محنتِ شاقہ کے ساتھ) دبیز سی چادر ’’شال‘‘ تیار کرنا دریافت کیا تھا جسے بوقتِ ضرورت یخ بستہ ہواؤں سے بچنے کے لئے اپنے جسم پر لپیٹتے تھے، یا اُس کی واسکٹ وغیرہ بنا کر پہنا کرتے تھے۔ مگر سینکڑوں سال قبل ہمارے پُرکھوں کی ہجرت نے ہمارے ہزاروں سالہ ساتھی اِس کلچر کو وہیں چھوڑ آئی اور یہاں تک ہماری یہ ثقافتی میراث اپنے ورثا کے ہمقدم نہ رہ سکی اور اُنہیں سیما پر ہی خیرباد کہہ کر وہیں رکنے کو اس لئے ترجیح دی تھی کیونکہ پاکستان موسمی لحاظ سے وہاں کی نسبت بدرجہا معتدل ہے۔

اُس دور میں ہمارے لوہاروں کا کام گرل، کھڑکیاں اور آہنی دروازے وغیرہ بنانا نہیں تھا۔ بلکہ وہ گھریلواستعمال کی اشیاء (ٹونٹی ’’چاقو‘‘، قفل چابی اور درانتیاں وغیرہ) بناکر اپنا روزگار چلاتے تھے۔ اُن کوہساروں میں ہمارے ترکانوں کاکام الماری، شوکیس یادیگر ڈیکوریشن کا سامان بنانا قطعاً نہیں تھا۔ بلکہ اُن کوہساروں میں ہمارے ترکانوں کاکام الماری، شوکیس یادیگر ڈیکوریشن کا سامان بنانا قطعاً نہیں تھا۔ بلکہ یہ حضرات بھی گھریلو لوازمات جن میں ’’لکڑی کی بنی ہوئی صندوقچیاں، پارو، گینتی بیلچہ کے دستے، بڑے سائز کی چمچ (سرماغ) اور طاقِ کتاب وغیرہ‘‘ بنانے میں اپنا دن بِتاتے تھے۔ کپڑے سینے والی موسیوں کے پاس فیتہ اور کاغذ قلم ان پڑھ ہونے کے ناطے ہوتے ہی نہیں تھے، جووہ  ماپ لے لے کر نوٹ کر لیتیں۔ بلکہ بچوں، بچیوں اور عورتوں کو ہفتوں بھر اپنے پہلو بٹھاکر کسی ڈوری یا دھاگے کو آلہ بنا کر جہاں ضرورت پڑتی دستیاب موصوف یا موصوفہ سے اندازاً ماپ لے کر سارا سارا دن کپڑے کاٹتی اور سیتی رہتی تھیں۔ اُس وقت سنگلاخ پہاڑوں میں بسا ہزارہ جات کے ایک محلہ سے دوسرے تک جانے کے لئے غریب طبقہ پیدل چل کر، متوسط طبقہ گدھوں پر، جبکہ ہمارے خان، قریہ دار یا طبقۂ بالا گھوڑوں کا استعمال کرکے اپنی کٹھن منزلیں طے کرتے تھے اور یہی طبقۂ بالا اپنی بڑھوتری جتلانے کی خاطر اونچی اونچی لنگیاں اپنے سروں پر باندھ کر اپنے قدوں کو دوسروں سے اونچا اور اپنی شخصیت کو ارفع و مفرد ثابت کرتے نظر آتے تھے ، جو بدقسمتی سے آج بھی کسی صورت جاری ہے۔ مرد حضرات میں روسی ساخت کا ربڑ کا بنا ہوا بوٹ (کلوش)جبکہ عورتوں میں ٹیڑھا میڑھا کُھسہ (کوسرہ) پہننے کا رواج عام تھا اور زادِ راہ کے طور پر ہماری عورتیں چاندی کی بنی ہوئی سکوں کے زیورات جن میں سلسلہ، گہنہ اور بالی وغیرہ شامل تھیں، پہنا کرتی تھیں۔ جو اُس دور میں کسی اے ٹی ایم کارڈ سے کم نہ تھیں اور جسے بوقتِ ضرورت اُدھیڑ کر صرف بھی کیا جاسکتا تھا۔ ’’یہ سب کہاں چلے گئے، جن کی آج ہمیں ضرورت محسوس نہیں ہوتیں؟‘‘

 

فدا حسین

مضمون نگار "اظہار" کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ انہیں فلسفے سے گہری دلچسپی ہے اور کتابوں کے مطالعے کا شوق رکھتے ہیں۔
فدا حسین

فدا حسین

مضمون نگار "اظہار" کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ انہیں فلسفے سے گہری دلچسپی ہے اور کتابوں کے مطالعے کا شوق رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *